دلدل کا علاقہ اور مسز ہیویشم

کہانی پِپ (Pip) نامی ایک حساس یتیم لڑکے سے شروع ہوتی ہے جو انگلینڈ کے نم آلود دلدلی علاقے میں پلا بڑھا ہے۔ اس کی پرورش اس کی سخت مزاج بڑی بہن اور اس کے مہربان اور نرم دل لوہار شوہر، جو گارگری (Joe Gargery) نے کی ہے۔ پِپ کا مستقبل بالکل سیدھا اور سادہ ہے: اسے جو کی طرح ایک غریب لوہار بننا ہے۔ تاہم، کرسمس کی ایک سرد شام جب پِپ اپنے والدین کی قبروں پر جاتا ہے، تو ایبل میگ وچ (Abel Magwitch) نامی ایک خوفناک، فرار ہونے والا قیدی اسے دبوچ لیتا ہے۔ میگ وچ پِپ کو بری طرح جھنجھوڑتا ہے اور دھمکی دیتا ہے کہ اگر اس نے جو کی دکان سے کھانا اور لوہا کاٹنے والی ریتی چوری کر کے نہ دی تو وہ اس کا گلا کاٹ دے گا۔ پِپ اپنی جان کے خوف سے ایسا ہی کرتا ہے۔ اگلے دن پولیس میگ وچ کو دوبارہ پکڑ لیتی ہے، لیکن وہ قیدی یہ جھوٹ بول کر پِپ کو بچا لیتا ہے کہ کھانا اس نے خود چوری کیا تھا۔

جلد ہی، پِپ کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے جب اسے "سیٹس ہاؤس" (Satis House) نامی ایک پُراسرار، ویران محل میں بلایا جاتا ہے، جو مس ہیویشم کی جائیداد ہے۔ مس ہیویشم ایک امیر اور تلخ مزاج خاتون ہیں جن کا دل دہائیوں پہلے اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب ان کے منگیتر نے شادی کے دن انہیں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ وہ اب بھی شادی کا وہی پرانا، زرد لباس پہنتی ہیں اور ان کی شادی کا سڑا ہوا کیک دھول سے اٹکی ہوئی میز پر مکڑیوں کے جالے میں گھرا ہوا ہے۔ مس ہیویشم نے 'ایسٹیلا' (Estella) نامی ایک خوبصورت لیکن سنگدل لڑکی کو گود لیا ہے، جس کی پرورش انہوں نے تمام مردوں سے بدلہ لینے اور ان کے دل توڑنے کے لیے کی ہے۔ پِپ کو ایسٹیلا سے گہری محبت ہو جاتی ہے، لیکن وہ پِپ کے کھردرے ہاتھوں اور دیہاتی بوٹوں کا مذاق اڑاتی ہے۔ پِپ کو اپنی سادہ زندگی پر سخت شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے اور وہ اس کا دل جیتنے کے لیے ایک امیر اور مہذب شریف آدمی بننے کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔

عظیم توقعات اور لندن کی زندگی

برسوں گزر جاتے ہیں، اور جب پِپ لوہاری سیکھنے کی زندگی کو قبول کر لیتا ہے، تو لندن کے ایک امیر وکیل مسٹر جیگرز (Mr. Jaggers) ایک چونکا دینے والی خبر لے کر آتے ہیں۔ ایک انتہائی امیر لیکن گمنام محسن نے پِپ کے لیے "عظیم توقعات" (ایک بہت بڑی دولت) وقف کی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ پِپ کو فوراً لندن منتقل ہونا ہوگا، ایک اعلیٰ طبقے کے شریف آدمی کی طرح تعلیم حاصل کرنی ہوگی، اور وہ کبھی اپنے خفیہ محسن کی شناخت نہیں پوچھے گا۔ پِپ فوراً یہ فرض کر لیتا ہے کہ یہ محسن مس ہیویشم ہی ہیں، تاکہ وہ امیر ہو کر آخر کار ایسٹیلا سے شادی کر سکے۔

لندن میں پِپ عیش و عشرت اور دولت کی زندگی میں گم ہو جاتا ہے۔ وہ مہنگے کپڑے خریدتا ہے، قرضوں میں ڈوب جاتا ہے اور اپنے ماضی کو حقارت سے دیکھنے لگتا ہے۔ جب اس کا مہربان سوتیلا باپ، جو، لندن میں اس سے ملنے آتا ہے، تو پِپ اس کے سادہ دیہاتی طریقوں کی وجہ سے اس کے ساتھ سرد مہر اور شرمندگی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ پِپ کی تمام تر توجہ سماجی رتبہ بڑھانے اور ایسٹیلا کے پیچھے بھاگنے پر مرکوز رہتی ہے، جو مسلسل اس کے جذبات سے کھیلتی ہے اور اسے خبردار کرتی رہتی ہے کہ اس کے سینے میں کسی سے محبت کرنے کے لیے دل ہی نہیں ہے۔

چونکا دینے والا سچ

پِپ کی زندگی کا یہ شاندار سراب اس وقت ٹوٹتا ہے جب وہ تئیس سال کا ہوتا ہے۔ ایک اندھیری اور طوفانی رات، ایک بوڑھا اور خستہ حال آدمی اس کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ پِپ کی ہولناکی کی انتہا نہیں رہتی جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی دلدل والا خوفناک قیدی، ایبل میگ وچ ہے! میگ وچ انکشاف کرتا ہے کہ آسٹریلیا کی جیل بھیجے جانے کے بعد، اس نے سخت محنت کی اور ایک بہت بڑی دولت کمائی۔ چونکہ پِپ نے اس وقت اس غریب مجرم کے ساتھ ہمدردی دکھائی تھی جب وہ بھوکا مر رہا تھا، اس لیے میگ وچ نے اپنی پوری زندگی پِپ کو ایک امیر شریف آدمی بنانے کے لیے وقف کر دی۔

پِپ کی دنیا بدل جاتی ہے۔ اس کی دولت مس ہیویشم جیسی معزز خاتون سے نہیں بلکہ ایک جلاوطن مجرم کی طرف سے آئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایسٹیلا کسی طے شدہ منصوبے کے تحت اس کے لیے نہیں بنی تھی۔ مزید یہ کہ میگ وچ غیر قانونی طور پر انگلینڈ واپس آیا تھا؛ اگر پولیس نے اسے دیکھ لیا تو اسے پھانسی دے دی جائے گی۔ شروع میں پِپ شرمندگی اور کراہت سے بھر جاتا ہے، لیکن اس بوڑھے کی اپنے لیے عقیدت دیکھ کر اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ جو جیسے اپنے سچے دوستوں کے ساتھ کتنا ناشکرا رہا ہے۔ پِپ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ میگ وچ کو چھپائے گا اور ملک سے بحفاظت فرار ہونے میں اس کی مدد کرے گا۔

آخری معرکہ اور اختتام

پِپ اور اس کا قریبی دوست ہربرٹ، میگ وچ کو ٹیمز دریا کے راستے ایک غیر ملکی جہاز پر سوار کرانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ تاہم، فرار کے دن، میگ وچ کے پرانے مجرم دشمن، کومپیسن کی مخبری پر پولیس ان کی کشتی کو گھیر لیتی ہے۔ پانی میں ایک شدید لڑائی ہوتی ہے اور کومپیسن ڈوب جاتا ہے۔ میگ وچ کو زندہ تو نکال لیا جاتا ہے لیکن وہ شدید زخمی ہوتا ہے اور اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

جب میگ وچ جیل کے ہسپتال میں موت کی گھڑیوں میں ہوتا ہے، تو پِپ روزانہ اس کے پاس بیٹھتا ہے اور آخر کار اس کے لیے سچی محبت اور شکر گزاری کا اظہار کرتا ہے۔ میگ وچ کے مرنے سے پہلے، پِپ اسے سکون دینے کے لیے ایک خوبصورت راز بتاتا ہے: یہ کہ میگ وچ کی کھوئی ہوئی بیٹی زندہ ہے، وہ بہت خوبصورت ہے اور پِپ اس سے محبت کرتا ہے (یہ انکشاف کرتے ہوئے کہ ایسٹیلا دراصل میگ وچ ہی کی سگی بیٹی تھی جسے مس ہیویشم نے گود لیا تھا)۔

میگ وچ کی موت کے ساتھ ہی حکومت اس کی تمام دولت ضبط کر لیتی ہے اور پِپ پائی پائی کو محتاج ہو جاتا ہے۔ وہ شدید بیمار ہو جاتا ہے اور قرضہ نہ چکانے کی وجہ سے جیل جانے کے قریب ہوتا ہے، لیکن وہی سادہ لوح لوہار، جو، لندن آتا ہے، پِپ کے تمام قرضے ادا کرتا ہے اور اپنی بے لوث محبت سے اسے دوبارہ صحت یاب کرتا ہے۔ اپنی غلطیوں پر شرمندہ اور عقل مند ہونے کے بعد، پِپ جو سے معافی مانگتا ہے، ایک سادہ سی نوکری اختیار کرتا ہے اور کئی سال تک سخت محنت کرتا ہے۔ ایک دہائی کے بعد، پِپ سیٹس ہاؤس کے کھنڈرات کا دورہ کرتا ہے اور وہاں اسے ایسٹیلا ملتی ہے، جو ایک ظالم شوہر کے ساتھ گزری مشکل شادی کے بعد اب اکیلی اور تنہا ہے۔ جب وہ دونوں کھنڈر بن چکے باغ سے شام کی دھند میں ایک ساتھ باہر نکلتے ہیں، تو پِپ کو احساس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل قیمت ایک اچھے دل سے ہوتی ہے، پیسے سے نہیں، اور اب اسے ایسٹیلا سے دوبارہ کبھی جدا نہ ہونے کی امید نظر آتی ہے۔