تخلیق کا جنون
کہانی سوئٹزرلینڈ کے ایک ذہین اور نوجوان یونیورسٹی کے طالب علم، وکٹر فرینکنسٹائن سے شروع ہوتی ہے، جو زندگی اور موت کے رازوں کو جاننے کے لیے جنون کی حد تک پاگل ہو جاتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ سائنس کے ذریعے موت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دو سال تک مکمل تنہائی میں کام کرتے ہوئے، وکٹر قبرستانوں سے سڑتی ہوئی انسانی لاشوں کے اعضاء، چیر پھاڑ کے کمروں سے ہڈیاں، اور ذبح خانوں سے ٹشوز چوری کرتا ہے تاکہ ایک بہت بڑا، آٹھ فٹ کا انسانی ڈھانچہ تیار کر سکے۔
نومبر کی ایک سرد اور طوفانی رات، وکٹر زندگی کی چنگاری پیدا کرنے کی امید میں اپنی اس تخلیق کو ایک پیچیدہ برقی مشین سے جوڑتا ہے۔ اچانک، کھڑکی پر بارش کی بوندیں برسنے لگتی ہیں اور موم بتی کی مدہم روشنی میں وہ مخلوق اپنی بے رونق زرد آنکھیں کھول دیتی ہے۔ وہ گہرے سانس لیتی ہے اور اس کے عضلات حرکت کرتے ہیں۔ فخر محسوس کرنے کے بجائے، وکٹر پر شدید خوف طاری ہو جاتا ہے۔ اس مخلوق کی پانی بھری آنکھیں، زرد جلد جو اس کے پٹھوں کو بمشکل چھپا رہی تھی، اور سیاہ ہونٹ اسے مکمل طور پر ایک خوفناک عفریت (Monster) بنا رہے تھے۔ پچھتاوے اور دہشت سے مغلوب ہو کر، وکٹر اپنی لیبارٹری سے بھاگ نکلتا ہے اور اس نوزائیدہ مخلوق کو اس تاریک دنیا میں اکیلا چھوڑ کر گلیوں میں فرار ہو جاتا ہے۔
تنہائی کا کرب
وہ مخلوق بالکل اکیلی رہ جاتی ہے، جس کا دماغ تو ایک نئے پیدا ہونے والے بچے جیسا ہے لیکن جسم ایک دیو قامت جادوگر جیسا۔ وہ سرد جنگلوں میں بھٹکتا ہے، خوراک، آگ اور پناہ گاہ کے لیے جدوجہد کرتا ہے، جبکہ جو بھی انسان اسے ملتا ہے وہ خوف سے چیختا ہے اور پتھروں سے اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ آخر کار، اس مخلوق کو ایک غریب خاندان کے کچے مکان کے ساتھ جڑا ہوا ایک چھوٹا سا خفیہ سایہ دار کمرہ مل جاتا ہے۔
مہینوں تک وہ وہاں چھپا رہتا ہے اور دیوار کے ایک چھوٹے سے سوراخ سے انہیں خفیہ طور پر دیکھتا ہے۔ ان کا مشاہدہ کرتے ہوئے، وہ بولنا، پڑھنا اور انسانوں کے گہرے جذبات جیسے محبت، مہربانی اور غم کو سمجھنا سیکھتا ہے۔ وہ رات کے وقت ان کے جانے بغیر ان کے لیے جلانے والی لکڑیاں بھی لا کر رکھتا ہے۔ اس مخلوق کے دل میں انسانیت کے لیے گہری محبت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ قبولیت کی امید میں گھر کے اندھے بوڑھے دادا کے پاس جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ بوڑھا آدمی اس سے بڑی نرمی سے بات کرتا ہے، لیکن جب خاندان کے باقی لوگ واپس آتے ہیں اور اس خوفناک دیو کو دیکھتے ہیں، تو وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور اسے بے رحمی سے مار کر بھگا دیتے ہیں۔ جس واحد خاندان سے اس نے محبت کی تھی، اس کی طرف سے ٹھکرائے جانے پر اس کا دکھ جلتی ہوئی نفرت میں بدل جاتا ہے۔ وہ اس جھونپڑی کو آگ لگا دیتا ہے اور اپنے خالق، وکٹر کو ڈھونڈنے کا عزم کرتا ہے تاکہ اس سے بدلہ لے سکے۔ وہ وکٹر کا پیچھا کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ پہنچتا ہے اور وکٹر کے معصوم چھوٹے بھائی ولیم کو قتل کر کے ہر طرف غم کی داستان چھوڑ دیتا ہے۔
ہولناک الٹی میٹم
وکٹر، جو گناہ کے احساس اور غم میں ڈوبا ہوا ہے، الپس کے برفانی پہاڑوں کی بلندیوں پر اپنے بنائے ہوئے اس عفریت سے ملتا ہے۔ وہ مخلوق ناقابلِ یقین ذہانت اور گہرے دکھ کے ساتھ بات کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کس طرح انسانوں کے ظلم نے اسے قاتل بنایا۔ وہ وکٹر کو ایک انتخاب دیتا ہے: "تمہیں میرے لیے ایک مادہ ساتھی بنانی ہوگی جو میری ہی طرح خوفناک دکھتی ہو، تاکہ ہم انسانوں سے دور امن سے رہ سکیں اور اگر تم ایسا کرو گے، تو میں کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ اگر تم نے انکار کیا، تو میں تمہاری ہر پیاری چیز کو تباہ کر دوں گا۔"
اپنے باقی ماندہ خاندان کے خوف سے، وکٹر مادہ مخلوق کی تیاری شروع کرنے کے لیے اسکاٹ لینڈ کے ایک دور دراز جزیرے پر جاتا ہے۔ تاہم، کام کے دوران ہی وکٹر اس کے نتائج کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ کیا ہوگا اگر یہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں؟ کیا ہوگا اگر وہ شیطانوں کی ایک پوری نسل پیدا کر دیں جو انسانیت کو تباہ کر دے؟ اوپر دیکھتے ہی وکٹر کو کھڑکی سے وہ عفریت مسکراتا ہوا نظر آتا ہے۔ غصے کے عالم میں، وکٹر اس ادھورے مادہ جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ وہ مخلوق غصے سے روتی ہوئی کمرے میں داخل ہوتی ہے اور ایک ہولناک دھمکی دیتی ہے: "میں تمہاری شادی کی رات تمہارے ساتھ ہوں گا!"
آخری معرکہ اور اختتام
وہ مخلوق اپنا وعدہ پورا کرتی ہے۔ مہینوں بعد، وکٹر کی شادی کی رات، جب وکٹر باہر دروازوں کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے، وہ عفریت دلہن کے کمرے میں گھس جاتا ہے۔ اچانک ایک چیخ رات کے اندھیرے کو چیر دیتی ہے۔ وکٹر تیزی سے اندر بھاگتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی خوبصورت دلہن، الزبتھ، بستر پر گلا گھونٹ کر ماری جا چکی ہے۔ وہ عفریت کھڑکی پر کھڑا ایک ظالمانہ ہنسی کے ساتھ اس کی لاش کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اندھیرے میں غائب ہو جاتا ہے۔
اس کے فوراً بعد وکٹر کے والد کا دل ٹوٹنے کی وجہ سے انتقال ہو جاتا ہے اور وکٹر سب کچھ کھو بیٹھتا ہے۔ وہ اپنی پوری زندگی اس مخلوق کے شکار کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہ تعاقب مہینوں جاری رہتا ہے، جو انہیں مختلف براعظموں سے گزارتے ہوئے قطب شمالی (Arctic Circle) کے منجمد اور سنسان علاقوں میں لے جاتا ہے۔ وکٹر، جو بالکل نڈھال، جم چکا اور موت کے قریب ہے، ایک گزرنے والے بحری جہاز کے ذریعے بچا لیا جاتا ہے۔ وہ اپنی المناک کہانی جہاز کے کپتان کو سناتا ہے اور اس سے التجا کرتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ شدید سردی کی وجہ سے مر جائے، وہ اس بلا کو ختم کر دے۔ اس رات کے آخری پہر، کپتان کو کیبن میں ایک عجیب آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ دیو قامت مخلوق وکٹر کی لاش کے پاس کھڑی گہرے پچھتاوے اور دکھ سے رو رہی ہے۔ وہ مخلوق کپتان کے سامنے اعتراف کرتی ہے کہ وکٹر کو مارنے سے اسے کوئی سکون نہیں ملا، بلکہ صرف مزید تکلیف پہنچی ہے۔ وہ کپتان کو بتاتا ہے کہ وہ قطب شمالی پر خود کو جلانے کے لیے لکڑیوں کا ایک بہت بڑا ڈھیر بنائے گا، اور پھر جہاز سے برف کے ایک ٹکڑے پر چھلانگ لگا کر ہمیشہ کے لیے تاریک، منجمد دھند میں غائب ہو جاتا ہے۔