لانگ آئی لینڈ کے محلات
کہانی نک کیراوے (Nick Carraway) نامی ایک پُرسکون نوجوان کی زبانی بیان کی گئی ہے، جو 1922ء کی گرمیوں میں لانگ آئی لینڈ، نیویارک منتقل ہوتا ہے۔ نک "ویسٹ ایگ" (West Egg) نامی ایک امیر علاقے میں ایک چھوٹا سا گھر کرایے پر لیتا ہے، جو جے گیٹسبی (Jay Gatsby) کے ایک بہت بڑے، محل نما مکان کے بالکل برابر میں واقع ہے۔ گیٹسبی ایک پُراسرار، خوبصورت کروڑ پتی ہے جو ہر ویک اینڈ پر انتہائی شاندار اور مہنگی پارٹیاں دیتا ہے۔ سینکڑوں امیر اور مشہور لوگ اس کے گھر شراب پینے، ناچنے اور جاز میوزک سننے آتے ہیں، لیکن حقیقت میں کوئی نہیں جانتا کہ گیٹسبی کون ہے، اس کی دولت کہاں سے آئی ہے، یا وہ خود اپنی پارٹیوں میں کیوں شامل نہیں ہوتا۔
جوں جوں نک اس دنیا میں شامل ہوتا ہے، اسے اپنی دوست جارڈن بیکر سے ایک چونکا دینے والا سچ معلوم ہوتا ہے۔ گیٹسبی کی یہ پوری سلطنت، اس کا بڑا گھر اور شاندار پارٹیاں صرف ایک مقصد کے لیے ہیں: نک کی کزن، ڈیزی (Daisy) کی توجہ حاصل کرنا۔ پانچ سال پہلے، جنگِ عظیم اول میں جانے سے پہلے، گیٹسبی اور ڈیزی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے۔ لیکن گیٹسبی غریب تھا، اور ڈیزی کے امیر خاندان نے اس پر دباؤ ڈال کر اس کی شادی ٹام بوکانن (Tom Buchanan) سے کروا دی، جو ایک انتہائی امیر لیکن مغرور اور بے وفا انسان تھا۔ پانچ سال سے گیٹسبی سمندر کے پار ڈیزی کے گھر کے باہر لگی ایک چھوٹی سبز روشنی (Green Light) کو دیکھ کر اسے دوبارہ پانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
دوبارہ شروع ہونے والا معاشقہ
نک، گیٹسبی کی مدد کرنے پر راضی ہو جاتا ہے اور ڈیزی کو اپنے چھوٹے سے گھر پر چائے کی دعوت دیتا ہے، بغیر یہ بتائے کہ گیٹسبی بھی وہاں موجود ہوگا۔ ان کی دوبارہ ملاقات شروع میں بہت عجیب ہوتی ہے—گیٹسبی اتنا گھبرایا ہوا ہوتا ہے کہ وہ نک کی گھڑی کو گرانے ہی والا ہوتا ہے—لیکن جلد ہی، پرانی چنگاری دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے۔ ڈیزی، گیٹسبی کی دولت، اس کے خوبصورت گھر اور اس کی لازوال محبت کو دیکھ کر جذباتی ہو جاتی ہے۔ ان کے درمیان ایک خفیہ رومانوی رشتہ شروع ہو جاتا ہے۔
تاہم، گیٹسبی کا رومانوی خواب حد سے بڑھ جاتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں چاہتا کہ ڈیزی اب اس سے محبت کرے؛ وہ پچھلے پانچ سالوں کو مکمل طور پر مٹانا چاہتا ہے۔ وہ ڈیزی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے شوہر ٹام کے سامنے کھڑی ہو، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہے، "میں نے تم سے کبھی محبت نہیں کی۔" گیٹسبی کا ماننا ہے کہ کافی رقم اور طاقت کے ساتھ، انسان ماضی کو دوبارہ دہرا سکتا ہے اور کسی بھی غلطی کو ٹھیک کر سکتا ہے۔
رازوں کا انکشاف
یہ تناؤ سے بھرپور صورتحال گرمیوں کے ایک شدید گرم دن نیویارک کے پلازا ہوٹل کے ایک نجی کمرے میں اس وقت دھماکہ خیز بن جاتی ہے جب ٹام بوکانن، گیٹسبی کا سامنا کرتا ہے۔ ٹام کو اپنی بیوی کے رویے پر شک ہو چکا تھا۔ ڈیزی اور نک کے سامنے، ٹام گیٹسبی کے کردار پر سخت حملہ کرتا ہے اور اس کے شاندار سراب کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ ٹام انکشاف کرتا ہے کہ گیٹسبی کو یہ پیسہ کسی امیر خاندان سے وراثت میں نہیں ملا جیسا کہ وہ دعویٰ کرتا تھا؛ بلکہ وہ جرائم اور غیر قانونی کاروبار کے ذریعے کروڑ پتی بنا ہے۔
ڈیزی یہ دیکھ کر خوفزدہ اور صدمے میں آ جاتی ہے کہ بحث کے دوران غصے کی وجہ سے گیٹسبی کے چہرے سے شائستگی کا ماسک اتر جاتا ہے۔ یہ بھانپ کر کہ ڈیزی خوف کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے نکل رہی ہے، گیٹسبی اپنا دفاع کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ڈیزی اس سنگین صورتحال کو سنبھالنے میں ناکام رہ کر پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ ٹام، یہ جانتے ہوئے کہ وہ یہ جنگ جیت چکا ہے، طنزاً ڈیزی کو حکم دیتا ہے کہ وہ گیٹسبی کی چمکیلی پیلی کار میں اس کے ساتھ واپس گھر جائے، کیونکہ اسے یقین تھا کہ اب ان کا معاشقہ ختم ہو چکا ہے۔
آخری معرکہ اور اختتام
واپسی کے سفر کے دوران، گیٹسبی کی پیلی کار سڑک پر اچانک سامنے آنے والی مرٹل ولسن (Myrtle Wilson) نامی خاتون کو ٹکر مارتی ہے، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو جاتی ہے۔ مرٹل خفیہ طور پر ٹام بوکانن کی محبوبہ تھی، اور اس نے پیلی کار کو ٹام کی گاڑی سمجھ کر اس کی طرف دوڑ لگائی تھی۔ کار بغیر رکے اندھیرے میں غائب ہو جاتی ہے۔ جب نک اسی رات گیٹسبی کو ڈیزی کے گھر کے باہر جھڑیوں میں چھپا ہوا پاتا ہے، تو گیٹسبی اصل سچ بتاتا ہے: کار دراصل ڈیزی چلا رہی تھی کیونکہ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی، لیکن گیٹسبی نے وعدہ کیا کہ وہ اسے پولیس سے بچانے کے لیے پورا الزام اپنے سر لے لے گا۔
اگلی صبح، ٹام بوکانن خود کو بچانے کے لیے مرٹل کے غمزدہ اور انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے شوہر، جارج ولسن کو بدنیتی سے بتاتا ہے کہ وہ پیلی کار گیٹسبی کی تھی اور گیٹسبی ہی وہ ڈرائیور تھا جس نے اس کی بیوی کو مارا ہے۔ اندھے غصے اور غم میں مبتلا جارج، گیٹسبی کے محل میں گھس جاتا ہے۔ وہ گیٹسبی کو اپنے سوئمنگ پول میں ایک گدے پر سکون سے تیرتے ہوئے پاتا ہے، جو آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا اور ڈیزی کے فون کا انتظار کر رہا تھا جو کبھی نہیں آنے والا تھا۔ جارج، گیٹسبی کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے اور پھر خود کو بھی ختم کر لیتا ہے۔
کہانی کا اختتام گہرے المیے پر ہوتا ہے۔ پوری گرمیاں گیٹسبی کی پارٹیوں میں سینکڑوں امیر لوگوں کے آنے کے باوجود، اس کے جنازے پر نک اور گیٹسبی کے بوڑھے والد کے سوا کوئی نہیں آتا۔ ڈیزی اور ٹام بوکانن خاموشی سے اپنا مہنگا سامان پیک کرتے ہیں، شہر چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں اور کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کرتے۔ نک، امیر طبقے کی اس سرد مہر اور بدعنوانی سے بددل ہو کر نیویارک چھوڑ دیتا ہے، اور گیٹسبی کی المناک زندگی پر غور کرتا ہے—ایک ایسا شخص جس نے اپنی پوری زندگی ایک خوبصورت لیکن ناممکن خواب کا پیچھا کرنے میں گزار دی، بالکل اس کشتی کی طرح جو لہروں کے مخالف آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتی ہے۔