کیسل ڈریکولا میں قید
کہانی جوناتھن ہارکر (Jonathan Harker) نامی ایک نوجوان اور پُرعزم انگریز وکیل سے شروع ہوتی ہے، جو ٹرانسلوانیا (Transylvania) کے تاریک پہاڑوں کا ایک طویل سفر طے کرتا ہے۔ اس کا مقصد ایک امیر جاگیردار، کاؤنٹ ڈریکولا، کو لندن میں ایک بڑی جائیداد خریدنے میں مدد دینا ہے۔ جب جوناتھن محل (کیسل) پہنچتا ہے، تو کاؤنٹ بڑی شائستگی سے اس کا استقبال کرتا ہے، لیکن وہاں کی فضا بہت بھاری اور ہولناک محسوس ہوتی ہے۔
جوں جوں دن گزرتے ہیں، جوناتھن کو احساس ہوتا ہے کہ وہ دراصل ایک قیدی بن چکا ہے۔ وہ وہاں کئی خوفناک راز دریافت کرتا ہے: آئینے میں کاؤنٹ کا کوئی عکس نظر نہیں آتا، وہ کبھی عام کھانا نہیں کھاتا، اور ایک شام جوناتھن ڈریکولا کو چھپکلی کی طرح محل کی پتھریلی دیواروں سے الٹا نیچے اترتے ہوئے دیکھتا ہے۔ جلد ہی، محل میں رہنے والی تین خوبصورت لیکن چڑیل نما مادہ ویمپائرز جوناتھن پر حملہ کر دیتی ہیں، لیکن ڈریکولا آخری سیکنڈ میں اسے بچا لیتا ہے کیونکہ وہ جوناتھن کے خون کو اپنے مقاصد کے لیے بچا کر رکھنا چاہتا ہے۔ یہ جان کر کہ یہاں رکنے کا مطلب موت ہے، جوناتھن محل کی دیوار سے نیچے بہتے ہوئے یخ بستہ دریا میں چھلانگ لگا کر فرار ہونے کی ایک خطرناک کوشش کرتا ہے۔
لندن پر منڈلاتا سایہ
ڈریکولا بحری جہاز کے ذریعے انگلینڈ کے لیے روانہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے ملک کی مٹی سے بھرے بڑے لکڑی کے صندوقوں میں چھپا ہوتا ہے۔ سفر کے دوران، جہاز کے عملے کے ارکان ایک ایک کر کے غائب ہو جاتے ہیں، اور جب جہاز انگلینڈ کے ساحل سے ٹکراتا ہے تو اس پر کوئی بھی زندہ انسان موجود نہیں ہوتا—صرف ایک بہت بڑا، پراسرار کتا ساحل پر چھلانگ لگاتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔
لندن پہنچ کر ڈریکولا اپنا تاریک کھیل شروع کرتا ہے۔ اس کی پہلی شکار لوسی (Lucy) بنتی ہے، جو جوناتھن کی منگیتر مائنا (Mina) کی بہترین دوست ہے۔ لوسی نیند میں چلنے لگتی ہے اور دن بہ دن کمزور ہوتی جاتی ہے، اس کے جسم سے خون تیزی سے کم ہونے لگتا ہے۔ اس کی گردن پر دو چھوٹے، پراسرار زخموں کے نشانات نمودار ہوتے ہیں۔ خوفزدہ ہو کر، اس کا منگیتر ڈاکٹر ابراہم وان ہیلسنگ (Dr. Abraham Van Helsing) کو بلاتا ہے، جو ایک ذہین سائنسدان ہے اور قدیم وہم و گمان اور توہم پرستوں کا ماہر ہے۔ وان ہیلسنگ لوسی کے کمرے کو لہسن کے پھولوں سے بھر دیتا ہے اور اسے بچانے کے لیے کئی بار خون کی بوتلیں چڑھائی جاتی ہیں، لیکن ڈریکولا بہت چالاک ہے۔ وہ گھر میں گھس کر لوسی کا آخری بار خون چوس لیتا ہے اور اسے مار ڈالتا ہے۔ اس کے جنازے کے چند دن بعد، رات کے وقت ایک "پراسرار خاتون" کی طرف سے چھوٹے بچوں کو کاٹنے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ وان ہیلسنگ لوسی کے دوستوں کو اس کے مقبرے پر لے جاتا ہے، جہاں ان کا سامنا ایک ہولناک سچائی سے ہوتا ہے: لوسی ایک ویمپائر بن چکی ہے۔ اس کی روح کو اس عذاب سے آزاد کرانے کے لیے، وہ اس کے دل کے آر پار لکڑی کی ایک میخ (Stake) اتارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
وقت کے خلاف ایک دوڑ
جوناتھن ہارکر معجزانہ طور پر ذہنی صدمے کی حالت میں لیکن زندہ لندن واپس آ جاتا ہے اور وان ہیلسنگ کی ٹیم میں شامل ہو جاتا ہے۔ تاہم، ڈریکولا پہلے ہی اپنے اگلے ہدف، یعنی مائنا کو چن چکا ہوتا ہے۔ کاؤنٹ مائنا کے بیڈ روم میں گھس کر اسے اپنے سینے سے ویمپائر کا خون پینے پر مجبور کرتا ہے، جس سے ان کے درمیان ایک پراسرار ذہنی رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس تعلق کی وجہ سے ڈریکولا مائنا کے دماغ کو قابو کر سکتا ہے، اور وقت کے ساتھ وہ خود بھی آہستہ آہستہ ویمپائر میں تبدیل ہو جائے گی۔
وان ہیلسنگ کو احساس ہوتا ہے کہ انہیں لندن میں موجود ڈریکولا کے مٹی والے صندوقوں کو تباہ کرنا ہوگا، کیونکہ وہ مٹی ہی لندن میں اس کے آرام کرنے کی واحد محفوظ جگہ ہے۔ مقدس پانی اور صلیبوں سے لیس ہو کر، یہ لوگ منظم طریقے سے ڈریکولا کے ہر ٹھکانے کو پاک (ناکارہ) کر دیتے ہیں۔ اپنی پناہ گاہیں چھن جانے اور یہ دیکھ کر کہ ہیروز اس کا شکار کر رہے ہیں، ڈریکولا لندن سے فرار ہو جاتا ہے اور بحری جہاز کے ذریعے واپس ٹرانسلوانیا کا رخ کرتا ہے۔
آخری معرکہ اور اختتام
ہیروز کو احساس ہوتا ہے کہ وہ مائنا کے اس پُراسرار ذہنی تعلق کو کاؤنٹ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ وان ہیلسنگ مائنا کو ہپناٹائز (Hypnotize) کرتا ہے، جس کے دوران مائنا لہروں کی آواز اور بھیڑیوں کے رونے کی آوازیں محسوس کرتی ہے، جس سے اس گروپ کو یورپ بھر میں ڈریکولا کا پیچھا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پہاڑوں اور شدید برفانی طوفانوں کے درمیان ایک سنسنی خیز تعاقب شروع ہوتا ہے۔
کیسل ڈریکولا کے دروازوں کے بالکل باہر، ہیروز اس بگھی پر حملہ کرتے ہیں جس میں کاؤنٹ کا آخری تابوت جا رہا ہوتا ہے، اور وہ ڈریکولا کے وفادار خادموں سے لڑتے ہیں۔ سورج تیزی سے غروب ہو رہا ہوتا ہے—اگر اندھیرا چھا گیا، تو ڈریکولا اپنی پوری اور ناقابلِ شکست طاقت دوبارہ حاصل کر لے گا۔ صرف چند سیکنڈ باقی ہوتے ہیں کہ جوناتھن ہارکر ایک بھاری چاقو سے ڈریکولا کا گلا کاٹ دیتا ہے جبکہ اس کا دوست، کوئنسی مورس (Quincey Morris)، ویمپائر کے دل میں خنجر اتار دیتا ہے۔ ڈریکولا کا چہرہ راکھ کی طرح سفید ہو جاتا ہے اور اس کا جسم مٹی کے ڈھیر میں بدل جاتا ہے۔ وہ تاریک جادو اسی وقت ختم ہو جاتا ہے، مائنا کی گردن کے نشانات غائب ہو جاتے ہیں اور وہ بالاآخر بچ جاتی ہے، اگرچہ کوئنسی مورس جنگ کے دوران لگنے والے زخموں کی وجہ سے سکون سے دم توڑ دیتا ہے۔