جمہوریہ مصر (1953–1958)

جمہوریہ مصر ایک ریاست تھی جو 1952 کے مصری انقلاب کے بعد 1953 میں محمد نجیب کی قیادت میں قائم ہوئی، جس کے نتیجے میں شاہی دور اور محمد علی خاندان کی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ 1958 میں 'متحدہ عرب جمہوریہ' (United Arab Republic) کے قیام کے ساتھ اس کا اختتام ہوا۔

اس ریاست کا رقبہ موجودہ مصر، غزہ کی پٹی (جس پر 'آل فلسطین پروٹیکٹوریٹ' کی حکومت تھی) اور 1956 تک موجودہ سوڈان اور جنوبی سوڈان پر مشتمل تھا۔ 1956 میں برطانوی-مصری کنڈومینیم کے خاتمے کے بعد سوڈان کو آزادی مل گئی۔

1952 کا انقلاب اور 'فری آفیسرز'

جمہوریہ مصر کا قیام 1952 کے انقلاب کے نتیجے میں عمل میں آیا، جس کی قیادت فری آفیسرز نامی فوجی افسران کے ایک گروہ نے کی۔ اس گروہ کے اہم رہنما محمد نجیب اور جمال عبدالناصر تھے، جن کا مقصد شاہ فاروق کا تختہ الٹنا، محمد علی خاندان کی حکمرانی کا خاتمہ، برطانوی قبضے کو ختم کرنا اور سوڈان کی آزادی کو یقینی بنانا تھا۔ اس انقلابی حکومت نے قوم پرستی، سامراج دشمنی اور عرب قوم پرستی کے ایجنڈے کو اپنایا۔

نہرِ سویز کا بحران (1956)

انقلاب کے چار سال بعد، 1956 میں برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کر دیا۔ اس کی وجہ ناصر کی جانب سے نہرِ سویز کو قومیانے (Nationalization) کا فیصلہ تھا۔ اگرچہ مصر کو فوجی طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لیکن سیاسی طور پر اسے مصر کی بڑی فتح سمجھا گیا کیونکہ پہلی بار نہرِ سویز مکمل طور پر مصر کے کنٹرول میں آگئی۔ اس واقعے نے جمال عبدالناصر کو پورے عالمِ عرب اور تیسری دنیا کا ایک کرشماتی لیڈر بنا دیا۔

بغاوت اور شاہ فاروق کی رخصتی

فری آفیسرز نے 22 جولائی 1952 کی رات کو بغاوت کا آغاز کیا۔ 25 جولائی تک فوج نے اسکندریہ پر قبضہ کر لیا جہاں شاہ فاروق مقیم تھے۔ افسران کے درمیان شاہ کے مستقبل کے حوالے سے بحث ہوئی، کچھ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے لیکن ناصر اور نجیب نے انہیں جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا۔ شاہ فاروق اپنے بیٹے احمد فواد (شاہ فواد دوم) کے حق میں دستبردار ہو گئے اور 26 جولائی کو اٹلی روانہ ہو گئے۔

صدارتی ادوار

محمد نجیب کی صدارت (1953–1954)

18 جون 1953 کو مصر کو باضابطہ طور پر جمہوریہ قرار دیا گیا اور محمد نجیب پہلے صدر بنے۔ تاہم، ناصر کے ساتھ اقتدار کی رسہ کشی کے بعد انہیں 1954 میں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا اور گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

جمال عبدالناصر کی صدارت (1954–1958)

نجیب کے بعد ناصر نے اقتدار سنبھالا۔ ان کی آزاد خارجہ پالیسی، سوویت یونین کے ساتھ اسلحے کا معاہدہ اور چین کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات نے امریکہ اور برطانیہ کو ناراض کر دیا۔ جب امریکہ اور برطانیہ نے 'اسوان ڈیم' کی مالی امداد سے انکار کیا، تو ناصر نے 26 جولائی 1956 کو نہرِ سویز کو قومیانے کا اعلان کر دیا تاکہ اس کی آمدنی سے ڈیم بنایا جا سکے۔

سویز جنگ کے فوجی مقاصد اور نتائج

اسرائیل نے 29 اکتوبر 1956 کو جزیرہ نما سینا پر حملہ کیا۔ اسرائیل کے مقاصد میں شرم الشیخ، العریش اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنا تھا تاکہ بحیرہ احمر تک اس کی رسائی بحال ہو سکے اور فدائین کے حملوں کو روکا جا سکے۔ برطانیہ اور فرانس بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے۔

جنگ کا خاتمہ امریکہ اور سوویت یونین کی سفارتی مداخلت سے ہوا۔ امریکی صدر آئزن ہاور نے برطانیہ کو شدید مالی نقصان کی دھمکی دی جس کے باعث اتحادی افواج کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ مورخین کا ماننا ہے کہ سویز بحران نے ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر برطانیہ کے کردار کے خاتمے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔