اسلامی عہدِ زریں
اسلامی عہدِ زریں تاریخِ اسلام کا وہ دور ہے جس میں سائنسی، معاشی اور ثقافتی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ روایتی طور پر اس کا عرصہ 8 ویں صدی سے 13 ویں صدی تک تسلیم کیا جاتا ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس دور کا آغاز عباسی خلیفہ ہارون الرشید (786-809) کے دور میں بغداد میں بیت الحکمت (House of Wisdom) کے قیام سے ہوا۔ بغداد اس وقت دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک تھا۔ اس ادارے نے پورے عالمِ اسلام سے علماء کو اپنی طرف راغب کیا تاکہ دنیا بھر کے کلاسیکی علوم کا عربی اور فارسی میں ترجمہ کیا جا سکے۔ یہ فکری اور ثقافتی سرگرمیاں قرونِ وسطیٰ کے دیگر اسلامی شہروں میں بھی پروان چڑھیں، جن میں الاندلس (خاص طور پر اموی قرطبہ، اشبیلیہ اور بعد کی صدیوں میں غرناطہ)، فاطمی قاہرہ اور دیگر بڑے تجارتی و علمی مراکز شامل تھے۔ روایتی طور پر اس دور کا اختتام 1258 میں منگول حملوں اور سقوطِ بغداد کے نتیجے میں عباسی خلافت کے خاتمے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
متبادل دورانیے
کچھ ماہرین اس عہد کی مدت کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ بعض علماء اس کا اختتام 1350 کے لگ بھگ کرتے ہیں تاکہ اس میں "تیموری نشاۃ الثانیہ" کو بھی شامل کیا جا سکے۔ دیگر اسے 15 ویں صدی تک پھیلاتے ہیں تاکہ غرناطہ کی نصری سلطنت کو شامل کیا جا سکے، جس کا دربار علم و ادب کا اہم مرکز تھا۔ کچھ ماہرین تو اسے 16 ویں صدی تک لے جاتے ہیں تاکہ اسلامی "بارود کی سلطنتوں" (Gunpowder Empires) کے عروج کو بھی اس میں سمویا جا سکے۔
تصور کی تاریخ
"عہدِ زریں" یا "گولڈن ایج" کا استعارہ 19 ویں صدی کے مستشرقین (Orientalists) کی تحریروں میں استعمال ہونا شروع ہوا۔ 1868 میں شام اور فلسطین کے ایک سفری ہدایت نامے کے مصنف نے مشاہدہ کیا کہ دمشق کی خوبصورت مساجد "خود اسلام کی طرح تیزی سے زوال پذیر ہیں" اور یہ "اسلام کے عہدِ زریں" کی نشانیاں ہیں۔
اس اصطلاح کی کوئی واحد اور حتمی تعریف نہیں ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ توجہ ثقافتی کامیابیوں پر ہے یا عسکری فتوحات پر۔ اسی لیے 19 ویں صدی کا ایک مصنف اسے خلافت کے پورے دور (ساڑھے چھ صدیاں) پر محیط سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا اسے خلفائے راشدین کی چند دہائیوں کے بعد حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت اور پہلی "فتنہ" (خانہ جنگی) پر ختم کر دیتا ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں یہ اصطلاح کبھی کبھار استعمال ہوتی تھی اور اس سے مراد خلفائے راشدین کی ابتدائی فوجی کامیابیاں لی جاتی تھیں۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں اس کا استعمال کثرت سے ہونے لگا، اور اب اس سے مراد عام طور پر 9 ویں سے 11 ویں صدی کے درمیان سائنس اور ریاضی کا وہ عروج لیا جاتا ہے جو بیت الحکمت کے قیام اور صلیبی جنگوں کے آغاز کے درمیان کا عرصہ ہے۔
زوال کا نظریہ
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اسلامی ثقافت کا زوال خلافت کے باضابطہ خاتمے سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ خان (2003) کے مطابق اصل عہدِ زریں 750 سے 950 کے درمیان کی دو صدیاں تھیں۔ محمد عبداللہ اس حوالے سے "نظریہِ زوال" (Decline Theory) کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عام تاثر یہ ہے کہ 8 ویں اور 9 ویں صدی میں یونانی علوم کے تراجم سے اس عہد کا آغاز ہوا، جس کے بعد دو صدیاں اصل تخلیقی کام ہوا، اور 11 ویں صدی کے بعد سے زوال کا دور شروع ہو گیا جو کہ 19 ویں صدی سے اکیڈمک لٹریچر میں ایک مقبول نظریہ رہا ہے۔