پابلو اسکوبار: "کوکین کا بادشاہ"
پابلو ایمیلیو اسکوبار گاویریا (1 دسمبر 1949 – 2 دسمبر 1993) ایک کولمبیائی منشیات کا اسمگلر، منشیات کا دہشت گرد (narcoterrorist) اور سیاست دان تھا، جو "میڈیلن کارٹل" (Medellín Cartel) کا بانی اور سربراہ تھا۔ اسے "کوکین کا بادشاہ" کہا جاتا تھا اور وہ تاریخ کے امیر ترین مجرموں میں سے ایک تھا، جس کی وفات کے وقت دولت کا اندازہ 30 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا تھا۔ 1980 اور 90 کی دہائی کے اوائل میں اس کے کارٹل نے امریکہ میں کوکین کی تجارت پر اجارہ داری قائم کر رکھی تھی۔
ابتدائی زندگی
پابلو اسکوبار 1949 میں ریو نیگرو، کولمبیا میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق "پائسا" (Paisa) نامی نسلی گروہ سے تھا اور اس کے آباؤ اجداد کا تعلق سپین اور اٹلی سے تھا۔ وہ سات بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا اور اس کا بچپن غربت میں گزرا۔ اس کے والد کسان اور والدہ ٹیچر تھیں۔ اسکوبار نے ہائی اسکول چھوڑ دیا لیکن بعد میں ایک جعلی ڈپلوما بنوایا تاکہ کالج جا سکے۔ اس کا خواب ایک وکیل اور سیاست دان بن کر ملک کا صدر بننا تھا، لیکن مالی حالات کی وجہ سے اسے تعلیم چھوڑنی پڑی۔
مجرمانہ کیریئر کا آغاز
اسکوبار نے اپنے مجرمانہ سفر کا آغاز قبروں کے کتبے چوری کرنے اور انہیں دوبارہ بیچنے سے کیا۔ بعد میں وہ گاڑیوں کی چوری اور لوگوں کو اغوا کر کے تاوان وصول کرنے کے دھندے میں شامل ہو گیا۔ 1971 میں اس نے ایک مشہور تاجر ڈیاگو ایشوریا کو اغوا کیا اور 50 ہزار ڈالر تاوان وصول کرنے کے باوجود اسے قتل کر دیا، جس سے اس کا گینگ بدنام ہو گیا۔
میڈیلن کارٹل اور کوکین کی تجارت
1970 کی دہائی کے وسط میں جب کولمبیا میں کوکین کی تجارت پھیلی، تو اسکوبار نے 1976 میں میڈیلن کارٹل کی بنیاد رکھی۔ اس نے پیرو، بولیویا اور ایکواڈور سے کوکین اسمگل کرنے کے راستے بنائے اور اسے امریکہ پہنچانا شروع کیا۔ 1980 کی دہائی تک اسکوبار ہر ماہ 70 سے 80 ٹن کوکین کولمبیا سے امریکہ بھیج رہا تھا۔ اس نے سرکاری حکام کو رشوت دینے یا قتل کرنے کے لیے "چاندی یا سیسہ" (Plata o Plomo) کی پالیسی اپنائی، جس کا مطلب تھا "پیسہ لو یا موت"۔
عروج اور سیاست
1982 میں اسکوبار کولمبیا کی پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوا۔ اس نے غریب علاقوں میں گھر، فٹ بال کے میدان، ہسپتال اور اسکول بنوائے، جس کی وجہ سے اسے مقامی لوگوں میں "رابن ہڈ" کی طرح مقبولیت حاصل ہوئی۔ تاہم، وزیرِ انصاف روڈریگو لارا اور صدارتی امیدوار لوئس کارلوس گالان اس کے خلاف ہو گئے، جس کے نتیجے میں اسکوبار نے ان دونوں کو قتل کروا دیا۔
جب حکومت نے اسے امریکہ کے حوالے کرنے (Extradition) کی کوشش کی، تو اسکوبار نے دہشت گردی کا راستہ اپنایا۔ اس نے مبینہ طور پر 'ایویانکا فلائٹ 203' کو بم سے اڑایا اور سپریم کورٹ پر حملے (Palace of Justice siege) کی حمایت کی، جس میں 98 افراد ہلاک ہوئے۔
لا کیٹیڈرل اور فرار
1991 میں اسکوبار نے اس شرط پر ہتھیار ڈالے کہ اسے امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ اسے اس کی اپنی بنائی ہوئی پرتعیش جیل "لا کیٹیڈرل" (La Catedral) میں رکھا گیا، جہاں تمام آسائشیں موجود تھیں۔ 1992 میں جب حکومت نے اسے عام جیل میں منتقل کرنے کی کوشش کی تو وہ وہاں سے فرار ہو گیا۔
وفات
اسکوبار کی تلاش کے لیے کولمبیا کی پولیس، امریکی ایجنسیوں اور اس کے حریف 'کالی کارٹل' (Cali Cartel) نے گھیرا تنگ کر دیا۔ 2 دسمبر 1993 کو، اپنی 44 ویں سالگرہ کے ایک دن بعد، اسکوبار میڈیلن کے ایک مکان میں پایا گیا۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہ چھت سے فرار ہونے کی کوشش میں مارا گیا۔ اسے دھڑ، پیروں اور سر میں گولیاں لگیں۔ اس کی موت آج بھی بحث کا موضوع ہے کہ آیا اسے پولیس نے مارا یا اس نے خود کشی کی۔
اس کی تدفین میں 25 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ آج اس کی نجی جائیداد "ہیسینڈا ناپولیس" (Hacienda Nápoles) کو ایک تھیم پارک میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس کی زندگی پر بے شمار فلمیں اور ڈرامے (جیسے Narcos) بن چکے ہیں۔