اوسیئیل کارڈیناس گیلین: "ماتا امیگوس" (دوستوں کا قاتل)

اوسیئیل کارڈیناس گیلین (پیدائش: 18 مئی 1967) میکسیکو کا ایک سابق منشیات فروش اور "گلف کارٹل" (Gulf Cartel) اور "لاس زیٹاس" (Los Zetas) کا سابق اعلیٰ ترین رہنما ہے۔

کارڈیناس شروع میں ریاست تاماولیپاس کے شہر مٹاموروس میں ایک میکینک تھا، لیکن 1996 میں اپنے قریبی دوست اور گلف کارٹل کے شریک سربراہ سالواڈور گومیز کو قتل کر کے اس نے کارٹل کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اپنے دوست کو قتل کرنے کی وجہ سے اسے "ماتا امیگوس" (Mata Amigos) یعنی دوستوں کا قاتل کہا جاتا ہے۔

لاس زیٹاس (Los Zetas) کا قیام

اوسیئیل کارڈیناس کی سب سے خطرناک میراث "لاس زیٹاس" کی تخلیق ہے۔ جب حریف گروہوں کے ساتھ لڑائی میں شدت آئی، تو کارڈیناس نے اپنی حفاظت اور کارٹل کی طاقت بڑھانے کے لیے میکسیکن فوج کے خصوصی دستوں (Special Forces) کے 30 سے زائد منحرف اہلکاروں کو بھرتی کیا۔

ان فوجیوں کی قیادت آرٹورو گوزمان ڈیسینا کر رہا تھا۔ ان تربیت یافتہ سابق فوجیوں نے گلف کارٹل کے ایک مسلح بازو کے طور پر کام شروع کیا، جو بعد میں "لاس زیٹاس" کے نام سے ایک آزاد اور انتہائی پرتشدد کارٹل بن گیا۔ ان کی آمد نے میکسیکو میں منشیات کی اسمگلنگ کے ایک نئے اور خونریز دور کا آغاز کیا، جہاں اغوا، بھتہ خوری اور وحشیانہ قتل عام معمول بن گیا۔

امریکی ایجنٹوں کے ساتھ ٹکراؤ (1999)

نومبر 1999 میں کارڈیناس نے مٹاموروس میں امریکی ایجنسیوں DEA اور FBI کے دو ایجنٹوں کو بندوق کی نوک پر روکا۔ ایجنٹ ایک مخبر کے ساتھ وہاں معلومات جمع کر رہے تھے۔ کارڈیناس نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی، لیکن ایجنٹوں نے اسے خبردار کیا کہ امریکی افسران کو مارنے کا نتیجہ اس کی مکمل تباہی ہوگا۔ کارڈیناس نے آخر کار انہیں جانے دیا لیکن دوبارہ آنے پر موت کی دھمکی دی۔ اس واقعے نے اسے امریکہ کے مطلوب ترین مجرموں کی فہرست میں شامل کر دیا اور اس کے سر پر 20 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا۔

گرفتاری اور قید

خاندان اور انجام

اوسیئیل کے بھائی ماریو اور انتونیو بھی گلف کارٹل کا حصہ تھے۔ انتونیو 2010 میں میکسیکن میرینز کے ساتھ ایک مقابلے میں مارا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ میکسیکو میں منشیات کی موجودہ جنگ کی بنیاد درحقیقت 2004 میں پڑی تھی جب کارڈیناس کی قیادت میں گلف کارٹل نے سینالوا کارٹل کو چیلنج کیا تھا۔