کھون سا: "افیون کا بادشاہ"
کھون سا تاریخ کے بدنام زمانہ منشیات فروشوں اور جنگجو سرداروں میں سے ایک تھا، جس نے برما (میانمار) کے پہاڑوں سے عالمی سطح پر ہیروئن کی تجارت کو کنٹرول کیاکھون سا (Khun Sa)، جس کا اصل نام ژانگ چیفو تھا، تاریخ کے سب سے بدنام اور طاقتور وار لارڈز (Warlords) میں سے ایک تھا۔ دنیا بھر میں "افیم کا بادشاہ" (Opium King) کے نام سے مشہور اس شخص نے اپنی ایک باقاعدہ نجی فوج بنا رکھی تھی اور بیسویں صدی کے آخری حصے میں "گولڈن ٹرائینگل" (Golden Triangle) کے پہاڑی علاقوں سے ہیروئن کی عالمی تجارت پر راج کیا۔
۔ ابتدائی زندگی اور شناخت کی تبدیلی
پیدائش اور خاندان: وہ 17 فروری 1934 کو برما (موجودہ میانمار) کی شمالی ریاست "شان" (Shan State) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد چینی نژاد تھے جبکہ اس کی والدہ کا تعلق مقامی شان قبیلے سے تھا۔
بچپن کی یتیمی: جب وہ چھوٹا تھا تو اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ پہاڑی علاقوں میں انتہائی غربت میں پرورش پانے کے دوران اس نے بقا کے طریقے سیکھے اور بہت چھوٹی عمر میں ہی افیم کی تجارت شروع کر دی۔
نام کی تبدیلی: مقامی لوگوں میں اپنی مقبولیت اور قیادت کو مضبوط کرنے کے لیے اس نے اپنا نام بدل کر "کھون سا" رکھ لیا، جس کا مقامی زبان میں مطلب ہے "خوشحال شہزادہ"۔
۔ عروج اور افیم کی سلطنت کا قیام
1960 کی دہائی میں کھون سا نے اپنی شاطرانہ ذہانت اور بے رحمانہ حکمتِ عملی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ایک مکھسوس نجی فوج (ملیشیا) تیار کی۔ اس نے افیم کی کمائی سے اپنے سپاہیوں کے لیے جدید ترین ہتھیار خریدے۔
ہیروئن کی دنیا پر راج: 1980 کی دہائی میں اپنے عروج کے وقت، مانا جاتا ہے کہ گولڈن ٹرائینگل سے ہونے والی ہیروئن کی عالمی تجارت کے تقریباً 70 فیصد حصے پر کھون سا کا کنٹرول تھا۔
عالمی اسمگلنگ اور امریکہ کا دباؤ: اس کی نجی فوج جنگلوں میں اعلیٰ معیار کی ہیروئن تیار کرتی اور اسے پہاڑوں سے نکال کر پوری دنیا میں سپلائی کرتی تھی۔ امریکی حکومت کا ماننا تھا کہ امریکہ میں داخل ہونے والی ہیروئن کی ایک بہت بڑی مقدار کا ذمہ دار یہی شخص تھا۔
آزادی کا مجاہد یا مجرم؟ کھون سا نے ہمیشہ خود کو صرف ایک ڈرگ ڈیلر ماننے سے انکار کیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ برمی حکومت کے خلاف "شان قوم" کی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے اور فوج کا خرچہ اٹھانے کے لیے افیم کا سہارا لے رہا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے مقامی لوگ اسے ایک مجرم کے بجائے آزادی کا مجاہد سمجھتے تھے۔
۔ جنگیں، گرفتاری اور روسی ڈاکٹروں کا اغوا
1967 کی افیم کی جنگ: 1967 میں کھون سا نے اس علاقے کی تجارت پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دوسرے اسمگلروں کے خلاف ایک خونی جنگ لڑی، جس میں اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
گرفتاری اور انوکھا سودا: 1969 میں برمی حکومت نے اسے گرفتار کر لیا۔ لیکن اس کے وفادار سپاہیوں نے 1974 میں برما میں کام کرنے والے دو روسی ڈاکٹروں کو اغوا کر لیا اور حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ڈاکٹروں کے بدلے کھون سا کو رہا کرے۔ یوں وہ جیل سے آزاد ہو گیا۔
20 لاکھ ڈالر کا انعام: امریکی حکومت نے اسے دنیا کا ایک بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے اس کے سر پر 20 لاکھ ڈالر کا انعام (Bounty) مقرر کیا۔
۔ غیر متوقع ہتھیار ڈالنا اور پرتعیش ریٹائرمنٹ
1990 کی دہائی کے وسط میں، اپنی ہی فوج کے اندرونی اختلافات اور بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے کھون سا کی طاقت کمزور ہونے لگی۔
1996 کا معاہدہ: کسی جیل یا موت کے خوف سے بچنے کے لیے، کھون سا نے 1996 میں برمی فوجی حکومت کے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کی اور ان کے سامنے "ہتھیار ڈال دیے"۔
شاہانہ ریٹائرمنٹ: دنیا کے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ اسے نہ تو امریکہ کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی جیل میں ڈالا گیا۔ اس کے بجائے، وہ دارالحکومت یانگون (Yangon) منتقل ہو گیا اور حکومت نے اسے انتہائی پرتعیش زندگی گزارنے کی اجازت دی۔ اس نے اپنی دولت کو قانونی کاروباروں جیسے کہ کان کنی (Mining) اور تعمیرات (Construction) میں لگایا۔
موت: کھون سا نے زندگی کے آخری سال آرام سے گزارے اور 2007 میں یانگون میں ذیابیطس (Diabetes) اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے 73 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا۔
۔ تاریخی یادگار (Legacy)
کھون سا کو گولڈن ٹرائینگل کی تاریخ کی سب سے بڑی اور متنازع شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ جہاں بین الاقوامی برادری اسے ایک خطرناک اور عالمی مجرم سمجھتی تھی، وہیں شان ریاست کے کچھ مقامی لوگ آج بھی اسے ایک ایسے لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے اس پسماندہ علاقے میں پیسہ لایا، سڑکیں بنوائیں اور اسکول قائم کیے۔