ہوآکین "ایل چاپو" گوزمین

ہوآکین آرچیوالڈو گوزمین لوئیرا (پیدائش: 4 اپریل 1957)، جو عام طور پر "ایل چاپو" کے نام سے مشہور ہے، میکسیکو کا ایک سابق منشیات فروش اور "سینالوا کارٹل" (Sinaloa Cartel) کا سابق سربراہ ہے۔ مانا جاتا ہے کہ گوزمین 34,000 سے زائد افراد کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے۔ اسے دنیا کا طاقتور ترین منشیات فروش سمجھا جاتا تھا جب تک کہ اسے امریکہ کے حوالے نہیں کر دیا گیا، جہاں وہ اس وقت عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

ابتدائی زندگی

گوزمین میکسیکو کی ریاست سینالوا کے ایک غریب کسان گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کا بچپن اپنے والد کے ہاتھوں جسمانی تشدد سہتے ہوئے گزرا۔ اس کے والد نے ہی اسے منشیات کی تجارت میں متعارف کرایا، جہاں وہ شروع میں مقامی ڈیلرز کے لیے بھنگ (marijuana) اگانے میں والد کی مدد کرتا تھا۔

غربت کی وجہ سے گوزمین تیسری جماعت میں اسکول چھوڑنے پر مجبور ہوا اور وہ بنیادی طور پر ان پڑھ ہے۔ اس کا قد 5 فٹ 6 انچ اور جسمانی ساخت مضبوط تھی، جس کی وجہ سے اسے میکسیکن زبان میں "ایل چاپو" (جس کا مطلب 'پستہ قد' یا 'چھوٹا' ہے) کا لقب ملا۔ 15 سال کی عمر میں اس نے اپنے کزنوں کے ساتھ مل کر بھنگ کی اپنی شجرکاری شروع کی تاکہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکے۔

مجرمانہ کیریئر کا آغاز

1970 کی دہائی کے آخر میں گوزمین نے ہیکٹر لوئس پالما سالازار کے ساتھ کام شروع کیا اور منشیات کی اسمگلنگ کے لیے راستے بنانے میں مدد کی۔ بعد میں اس نے میکسیکو کے بڑے منشیات فروش میگل اینجل فیلکس گیالارڈو کے لیے لاجسٹکس کا کام سنبھال لیا۔ 1989 میں فیلکس کی گرفتاری کے بعد گوزمین نے اپنا الگ کارٹل "سینالوا کارٹل" قائم کیا۔

گوزمین نے امریکہ اور یورپ میں بڑے پیمانے پر کوکین، ہیروئن اور دیگر منشیات اسمگل کرنے کے لیے جدید طریقے متعارف کرائے، جن میں سرحدوں کے نیچے طویل سرنگیں بنانا سب سے نمایاں تھا۔ 'فوربس' میگزین نے 2009 سے 2013 کے درمیان اسے دنیا کے طاقتور ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا، جبکہ امریکی حکام کے مطابق اس کی دولت اور اثر و رسوخ کولمبیا کے پابلو اسکوبار کے برابر تھا۔

گرفتاریاں اور فرار

پہلی گرفتاری (1993):

گوزمین کو پہلی بار 1993 میں گوئٹے مالا میں گرفتار کیا گیا اور میکسیکو لایا گیا، جہاں اسے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جیل میں ہونے کے باوجود اس کا منشیات کا کاروبار اس کے بھائی آرٹورو گوزمین کی نگرانی میں بلا روک ٹوک چلتا رہا۔

پہلا فرار (2001):

19 جنوری 2001 کو گوزمین میکسیکو کی ایک انتہائی محفوظ جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کپڑے دھونے والی ایک ٹرالی (laundry cart) میں چھپ کر جیل سے باہر نکلا۔ اس فرار کے منصوبے میں جیل کے عملے سمیت تقریباً 78 افراد ملوث تھے اور اس پر گوزمین کے ڈھائی ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

دوسری گرفتاری اور فرار (2014-2015):

تیرہ سال مفرور رہنے کے بعد اسے 2014 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ تاہم، جولائی 2015 میں وہ ایک بار پھر جیل سے فرار ہو گیا۔ اس بار اس کے ساتھیوں نے اس کے سیل (cell) کے نیچے ڈیڑھ کلومیٹر لمبی سرنگ کھودی تھی، جس میں بجلی اور ہوا کا مکمل انتظام موجود تھا۔

آخری گرفتاری اور امریکہ حوالگی

جنوری 2016 میں ایک مقابلے کے بعد میکسیکن حکام نے اسے دوبارہ پکڑ لیا۔ ایک سال بعد اسے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ 2019 میں امریکی عدالت نے اسے سینالوا کارٹل کی قیادت اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت تمام الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ وہ اس وقت امریکہ کی ریاست کولوراڈو کی انتہائی محفوظ جیل ADX Florence میں قید ہے۔

اس کی زندگی پر مبنی کئی کتابیں اور ٹی وی سیریز (جیسے 'El Chapo' اور 'Narcos: Mexico') بنائی جا چکی ہیں، جو اس کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتی ہیں۔