فرینک لوکاس: "امریکن گینگسٹر"
فرینک لوکاس (9 ستمبر 1930 – 30 مئی 2019) امریکہ کا ایک بدنامِ زمانہ منشیات فروش تھا، جس نے 1960 کی دہائی کے آخر اور 1970 کی دہائی کے اوائل میں نیویارک شہر کے علاقے ہارلیم (Harlem) میں ہیروئن کی اسمگلنگ کا ایک وسیع نیٹ ورک چلایا۔ وہ جنوب مشرقی ایشیا سے براہِ راست منشیات خریدنے اور درمیانی واسطوں (middle-men) کو ختم کرنے کی وجہ سے مشہور ہوا، جس نے اسے بے پناہ دولت مند اور طاقتور بنا دیا۔ اس کی زندگی 2007 کی مشہور فلم American Gangster کی بنیاد بنی۔
ابتدائی زندگی
پیدائش: وہ 9 ستمبر 1930 کو شمالی کیرولائنا کے علاقے لا گرینج میں پیدا ہوا۔
نیویارک منتقلی: وہ 1940 کی دہائی میں ہارلیم، نیویارک منتقل ہو گیا۔
سرپرستی: لوکاس کا دعویٰ تھا کہ وہ ہارلیم کے افسانوی گینگسٹر ایلزورتھ "بمپی" جانسن کا کئی سالوں تک دستِ راست رہا۔
اقتدار کا عروج ("بلیو میجک" کا دور)
اجارہ داری کا خاتمہ: 1968 میں بمپی جانسن کی موت کے بعد، لوکاس نے محسوس کیا کہ ٹاپ باس بننے کے لیے اسے نیویارک میں ہیروئن کی تجارت پر اطالوی مافیا کے قبضے کو توڑنا ہو گا۔
گولڈن ٹرائینگل: لوکاس نے تھائی لینڈ کا سفر کیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے "گولڈن ٹرائینگل" سے براہِ راست ہیروئن خریدنے کا رابطہ قائم کیا۔
کیڈاور کنکشن (Cadaver Connection): لوکاس نے دعویٰ کیا کہ وہ ویتنام جنگ سے واپس آنے والے امریکی فوجی طیاروں میں تابوتوں کے ذریعے ہیروئن امریکہ لاتا تھا۔ اس وجہ سے اسے "کیڈاور کنکشن" یا "سارجنٹ سمیک" (Sergeant Smack) جیسے القاب ملے۔
بلیو میجک: اس نے اپنی منشیات کو Blue Magic کے برانڈ نام سے فروخت کیا، جو اپنی اعلیٰ پاکیزگی (اکثر 100%) اور حریفوں کے مقابلے میں کم قیمت کی وجہ سے مشہور تھی۔
دولت: اپنے عروج پر، لوکاس کا دعویٰ تھا کہ وہ روزانہ 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کما رہا تھا، جس سے اس نے جائیدادیں، جیٹ طیارے اور مہنگی گاڑیاں خریدیں۔
زوال اور گرفتاری
نمائشی طرزِ زندگی: لوکاس نے اپنی دولت کی نمائش شروع کر دی۔ 1971 میں محمد علی اور جو فریزیئر کے باکسنگ مقابلے میں وہ 125,000 ڈالر کا قیمتی فر کوٹ (chinchilla coat) پہن کر پہنچا، جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ اس کی طرف مبذول کروا دی۔
1975 کا چھاپہ: 1975 میں وفاقی ایجنٹوں نے نیو جرسی میں اس کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے 584,000 ڈالر نقدی اور بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی۔
سزا: اسے 1976 میں مجرم قرار دیا گیا اور 70 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
تعاون اور آخری سال
مخبر بننا: اپنی سزا کم کروانے کے لیے، لوکاس حکام کے ساتھ تعاون کرنے پر راضی ہو گیا۔ اس نے ایسی معلومات فراہم کیں جن کی بنیاد پر منشیات کے 100 سے زائد کیسز میں سزائیں ہوئیں۔
گواہ تحفظ پروگرام: بدعنوان پولیس افسران اور دیگر منشیات فروشوں کے خلاف مدد کرنے کی وجہ سے اسے اور اس کے خاندان کو گواہوں کے تحفظ کے پروگرام (Witness Protection Program) میں شامل کر لیا گیا۔
رہائی اور دوبارہ گرفتاری: وہ صرف پانچ سال قید کاٹنے کے بعد رہا ہو گیا، لیکن 1984 میں اسے دوبارہ منشیات کے ایک معاملے میں پکڑا گیا۔ سابقہ تعاون کی وجہ سے اس بار اسے صرف سات سال قید ہوئی اور وہ 1991 میں رہا ہوا۔
وفات: اپنی زندگی کے آخری سالوں میں اس نے ہارلیم کی کمیونٹی کو منشیات سے پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وہ 30 مئی 2019 کو 88 برس کی عمر میں نیو جرسی میں انتقال کر گیا۔