آمادو کاریلو فوئینٹیس: "آسمانوں کا مالک"

آمادو کاریلو فونٹس (Amado Carrillo Fuentes) تاریخ کے سب سے طاقتور، امیر ترین اور شاطر مکسیکن ڈرگ لارڈز میں سے ایک تھا۔ جواریز کارٹیل (Juárez Cartel) کے بلا شرکتِ غیرے سربراہ کے طور پر، اس نے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے مسافر اور کارگو ہوائی جہازوں کا پورا بیڑا استعمال کر کے جرائم کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ اسی وجہ سے اسے دنیا "ایل سینئور ڈی لاس سییلوس" (El Señor de Los Cielos) یعنی "آسمانوں کا مالک" (Lord of the Skies) کے نام سے جانتی تھی۔ اپنی موت کے وقت اس کی دولت کا اندازہ تقریباً 25 ارب ڈالرز لگایا گیا تھا۔

۔ ابتدائی زندگی اور خاندانی روابط

آمادو کاریلو 17 دسمبر 1954 کو مکسیکو کی ریاست سینالوا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ وہ بارہ بہن بھائیوں میں سے ایک تھا۔ جرائم کی دنیا میں اس کا داخلہ خاندانی تعلقات مرہونِ منت تھا؛ وہ گواڈلہارا کارٹیل کے مشہور لیڈر ارنسٹو فونسیکا کاریلو عرف "ڈان نیٹو" کا بھانجا تھا۔ اپنے ماموں کی نگرانی میں آمادو نے منشیات کے کاروبار کے تمام گُر سیکھے اور بعد میں اپنے بھائیوں اور اپنے بیٹے کو بھی اسی دھندے میں شامل کر لیا۔

۔ عروج اور مجرمانہ کیریئر

آمادو نے اپنے کیریئر کا آغاز سرحد پر اپنے ماموں کی کوکین کی کھیپوں کی نگرانی اور پرانے اسمگلروں سے بارڈر آپریشنز سیکھ کر کیا۔ لیکن اس کا اصل عروج اس وقت شروع ہوا جب اس نے اپنے ہی باس رافیل اگویلار کو قتل کر کے جواریز کارٹیل کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔

۔ قانون کا بڑھتا ہوا دباؤ

1990 کی دہائی کے وسط تک، امریکی اور مکسیکن اداروں کا دباؤ اپنی آخری حدوں کو چھونے لگا۔ مکسیکو کے عوام ڈرگ مافیا کی سرپرستی کرنے والے کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ جب آمادو کو پناہ دینے والا ایک مقامی گورنر عوامی احتجاج کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہوا اور گرفتار ہوا، تو آمادو کو اندازہ ہو گیا کہ اس کی سیاسی چھتری اب ختم ہو چکی ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی (DEA) اور مکسیکن پولیس دونوں اس کے پیچھے تھیں، اور وہ جانتا تھا کہ اب اسے مستقل غائب ہونا پڑے گا۔

۔ پلاسٹک سرجری اور پراسرار موت

دنیا بھر کی پولیس سے ہمیشہ کے لیے بچنے کے لیے، آمادو نے اپنا چہرہ اور شناخت مکمل طور پر بدلنے کا فیصلہ کیا۔ 4 جولائی 1997 کو، وہ مکسیکو سٹی کے سانتا مونیکا ہسپتال میں ایک فرضی نام سے داخل ہوا تاکہ چہرے کی وسیع پلاسٹک سرجری اور پیٹ کی چربی کم کرنے (liposuction) کا آپریشن کروا سکے۔

۔ کارٹیل کا ہولناک انتقام

اس کی موت کے چند مہینوں بعد اس پراسرار کہانی نے ایک ہولناک موڑ لے لیا۔ 7 نومبر 1997 کو، ان دو سرجنوں کی لاشیں ہائی وے کے قریب لوہے کے ڈرموں میں کنکریٹ سے جمی ہوئی ملیں جنہوں نے آمادو کا آپریشن کیا تھا۔ ان کے جسموں پر بدترین تشدد کے نشانات تھے۔ ان کے قریب ہی ایک تیسری ناقابلِ شناخت لاش بھی ملی، جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ اسسٹنٹ ڈاکٹر تھا۔ کارٹیل نے اپنے باس کی آپریشن تھیٹر میں موت کا بدلہ پورے طبی عملے کو انتہائی بے رحمی سے قتل کر کے لیا تھا